Saturday, 18 January 2020
/ نسخہ جات / جریان کے اسباب اور علاج

جریان کے اسباب اور علاج

جریان کے لفظی معنیٰ ہیں کسی چیز کا جاری ہونا۔ طبی اصطلاح میں عام طور پر منی کے بلاوجہ بہنے کو جریان کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں اس کو سپرم ٹوریا کہتے ہیں جو یونانی الفاظ سے مرکب ہے۔ ایک لفظ سپرم جس کے معنی تخم یا بیج کے ہیں۔ اور دوسرا لفظ ٹوریا ہے جس کے معنی بہنا کے ہیں۔ کیونکہ منی انسانی جسم میں تخم یا بیج کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے اس کو جریان منی کہتے ہیں۔ جس طرح لکڑی کو گھن لگ جاتا ہے اور اسے کھوکھلا کر دیتا ہے اسی طرح جریان منی انسانی جسم میں ایک گھن ہے۔ جو کہ انسانی جسم کو کھوکھلا اور ناکارہ کر دیتا ہے۔ جریان منی کا اثر تمام اعضائے رئیسہ پر ضرور پڑتا ہے۔

 علامات

دماغ کمزور ہو جاتا ہے، قوت حافظہ جواب دے جاتی ہے، سر میں درد رہنے لگتا ہے، چکر آنے شروع ہو جاتے ہیں، دماغ خالی محسوس ہوتا ہے، کانوں میں سائیں سائیں کی آوازیں آتی رہتی ہیں، نظر کمزور ہو جاتی ہے، آنکھیں اندر کو دھنس جاتی ہیں، چہرہ بے رونق ہو جاتا ہے، رعب جاتا رہتا ہے، دل کمزور ہو جاتا ہے، زرا سی بات پہ دل دہل جاتا ہے، بھوک کم لگتی ہے،  کھایا پیا ہضم نہیں ہوتا، معدہ اور جگر کمزور ہو جاتے ہیں، گردہ اور مثانہ کمزور ہو جاتے ہیں، پیشاب بار بار آنا شروع ہو جاتا ہے، خصیے لٹک جاتے ہیں، جسم محض ایک ڈھانچہ بن کر رہ جاتا ہے۔

 اسباب

جب کثرت مباشرت، جلق، اغلام اور غلط عادات سے مادہ منویہ کا بہ کثرت اخراج ہوتا رہتا ہے تو پھر اسے ہمیشہ بہنے کی عادت ہو جاتی ہے۔ جس سے یہ ایک مستقل مرض کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ اکثر حالات جن سے اعضائے تناسل کی طرف توجہ مائل رہے، عشق انگیز قصوں اور کتابوں کا پڑھنا ہر وقت اعضاءِ تناسل متحرک خیالات میں رہتا ہے، جریان کے اہم اسباب ہیں۔

بعض دفعہ دائمی قبض، گردے مثانے کی پتھری، گرم اور مقوی اغزیہ کا بکثرت استعمال اور شراب، گوشت اور چائے کی کثرت سے یہ شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ مگر ذیادہ تر جلق، اغلام، کثرت مباشرت سے ہی اعضاء ذکی الحس ہو جاتے ہیں اور جریان منی کا باعث بنتے ہیں۔

 نقصانات

جب مباشرت کے بغیر، بلا خواہش منی کا اخراج خود بخود ہو تو یہ جریان منی کی سب سے بڑی علامت ہے۔ جریان سے مریض کمزور ہو جاتا ہے۔ مریض دائمی یا جسمانی کام نہیں کر سکتا۔ مریض کے خیالات منتشر رہتے ہیں۔ تھوڑا سا چلنے سے سانس پھول جاتا ہے۔ نیند نہیں آتی اگر آتی ہے تو مریض کی تھکاوٹ دور نہیں ہوتی۔ ریڑھ کی ہڈی پر چیونٹیاں چلتی محسوس ہوتی ہیں۔ نظر کمزور ہو جاتی ہے۔ جلد کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے۔ پاوں کے تلووں میں جلن ہوتی ہے۔ بدنی کمزوری دن بدن بڑھتی جاتی ہے۔ مریض کا مزاج چڑچڑا ہو جاتا ہے۔ کبھی مریض کو جنون بھی ہو جاتا ہے۔

 علاج

جریان کے علاج میں یہ بات دیکھنی چاہئے کہ سب سے پہلے مریض کی ذکاوت حس دور ہونی چاہئے۔ پھر جریان کی اصولی ادویات استعمال ہونی چاہئیں۔ اس کے ساتھ مریض کا ماحول بھی تبدیل ہونا چاہئے۔ مریض کو ایسے حالات سے جہاں جنسی تحریک پیدا ہوتی ہو دور کر دینا چاہیے مریض کو مذہبی کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے فحش فلمیں، فحش لٹریچر کے قریب بھی نہ جانا چاہیے۔ معالج کا کام ہے کہ مریض کو یہ بات سمجھا دینی چاہیے کہ اگر وہ اپنا ماحول اور سوچ تبدیل نہ کرے گا تو پھر ہر گز صحت یاب نہ ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مریض کو مقوی اغذیہ سے بھی پرہیز کرنا چاہیے مریض کو نماز کی پابندی کرنی چاہیے اور نیک لوگوں کی محفل میں بیٹھنا چاہیے برے دوستوں اور لوگوں کے پاس نہیں جانا چاہیے درود شریف بکثرت پڑھنا چاہیے۔

 نسخہ

رال سفید عمدہ لے کر باریک پیس لیں اور ایک مٹی کے پیالے میں ڈال کر اس پر اتنا شیر برگد ڈالیں کہ دو انگل اوپر چڑھ جائے پھر اس کو رکھ دیں۔ جب دودھ برگد خشک ہو جائے تو دودھ برگد اور ڈال دیں جب وہ بھی خشک ہو جائے تو تمام دوا کا سفوف بنا لیں یا تھوڑا سا پانی ملا کر رگڑ کر گولیاں بقدر نخود کابلی تیار کر لیں۔

 خوراک

 ایک تا دو گولی صبح شام ہمراہ دودھ