1. ہوم
  2. مضامین
  3. بار بار کھانا

بار بار کھانا

آج کل ضرورت سے زیادہ کھانا یا بسیار خوری کی ایک بدترین قسم بار بار کھانا پینا ہے۔ چائے، بوتل، لسی، سکنجبین، ملک شیک، جوس، شربت، آئس کریم، فروٹ، مٹھائی، سموسے کیک، بسکٹ چاکلیٹ ٹافی، کباب، پکوڑے، دہی بھلے، چاٹ وغیرہ کا سلسلہ اکثر و بیشتر جاری رہتا ہے۔ حقیقیت میں اگر دن بھر کی اناپ شناب کی کیلوری ویلیو جمع کریں تو وہ بلامبالغہ ان کھانوں کی مجموعی کیلوری ویلیو سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے جو غذا کی نیت سے کھائی ہی نہیں جاتیں۔

کل ایک صاحب جو معدے کی تکلیف کے شاکی تھے اور اس ہی غرض سے دوا لینے آئے تھے۔ مگر ساتھ ساتھ کم خوری کے دعویدار بھی تھے کہنے لگے میں نے کل شام صرف آدھی چپاتی کھائی ہوئی ہے اس کے باوجود معدے پر بوجھ ہے۔

پوچھا کیا کچھ اور تو نہیں کھایا تھا چند لمحے غور کرنے کے بعد کہنے لگے ہاں کھانے سے تھوڑی دیر پہلے ٹھنڈے گرمے کی پلیٹ کھائی تھی اور کوئی چیز جو کھائی ہو؟ کچھ سوچ کر"کھایا تو کچھ نہیں ایک بوتل پیپسی پی تھی کہ ہاضمہ ہو جائے اور سونے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل ڈیڑھ پاؤ چینی ملا دودھ پیا تھا۔ قارئین کرام یہ ہے آدھی چپاتی یا کم خوری کی اصل حقیقت۔

ان کے نزدیک روٹی چاول کے علاوہ تمام اشیاء خورد نوش فاقہ کشی کی فہرست میں شمار ہوتی ہیں۔ عموماً ہمارے ہاں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ تھوڑا بہت کھا پی لینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا چائے کی پیالی یا بوتل ہی تو ہے کون سی ثقیل غذا ہے جو جلد ہضم نہ ہوگی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان چیزوں کی کیلوری ویلیو بہت زیادہ ہے اگر بلا ضرورت صرف سادہ پانی "جس کی کیلوری صفر ہے" ہی پیا جائے تو یہ بھی ہاضمے کے لیے مضر ہے اور پیٹ کو بڑھاتا ہے ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔ لیکن جب مذکورہ بالا چیزوں کا کثرت سے استعمال کیا جائے تو قطرہ "قطرہ می شود دریا" کے مطابق نتیجہ نکلتا ہے۔

آپ ہمیشہ ہر اس چیز سے چوکنے رہیں جو آپ کے روزمرہ کے معمول کے کھانوں کے علاوہ آپ کے معدے میں اس دھوکے سے داخل ہوتی ہے گویا وہ کھانا نہیں۔۔

جو چیز معدے میں داخل ہوتی ہے وہ اسے بہرحال ہضم کرنا پڑتی ہے۔

جسم کی ضرورت سے زائد خوراک معدے پر بوجھ ہے جو اکثر بیماریاں پیدا کرتی ہے۔ لہذا پر خوری سے اجتناب کرنا ہی اپنے جسم سے انصاف ہے اور بوجھل پن کی سمسیا دور کرنے کا طریقہ ہے۔ کھانے کے بعد چھ گھنٹہ کا لمبا وقفہ دیں۔ کھانے کے بعد میٹھا کھانا، چکنائی سے بھرپور مٹھائی کھانا آپ کے اچھے صحت مند کھانے کو برباد کرکے رکھ دیتا ہے مت کھائیں۔

حکیم مظفر علی زیدی

جھنگ صدر سے 1993 میں فاضل طب الجراحت کا امتحان پاس کیا۔ تین سال جڑی بوٹیوں کی پہچان کی خاطر مختلف پنسار سٹورز پر اپنی خدامات ادا کیں۔ 1997 میں "زیدی دواخانہ " (کڑیال روڈ نوشہرہ ورکاں ضلع گوجرانولہ) کا قیام عمل میں لا کر مطب کا آغاز کیا۔ جو اللہ کے فضل سے لوگوں کے لئیے شفاء اور آسانیوں کا باعث بن رہا ہے۔

رابطہ نمبر 03005816733، 03481816733۔