Saturday, 26 September 2020
  1. ہوم /
  2. مضامین /
  3. ہسٹیریا، اسباب، علامات اور علاج

ہسٹیریا، اسباب، علامات اور علاج

ہسٹیریا کی اصطلاح ایک یونانی لفظ ہسٹیریا (Hysteria) سے لی گئی ہے جس کے معنی رحم کے ہیں۔ پہلے کے زمانے میں اسے رحم کی بیماری سمجھا جاتا تھا لیکن یہ بیماری ایسی عورتوں میں پائی جاتی ہے جن کے رحم پیدائشی طور پر نہ ہوں۔

بعض مردوں کو بھی یہ بیماری لاحق ہوتی ہے۔ اس لیے اب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اس بیماری کی وجہ رحم نہیں ہے البتہ یہ صحیح ہے کہ اگر اس مرض کے ساتھ رحم کی بیماریاں بھی شامل ہوجائیں تو اس کی شدت زیادہ ہو جاتی ہے۔ اور کچھ لوگ اس کو خواتین کے غیر شادی شدہ ہونے سے جوڑتے ہیں اور کہیں تو اسے جن بھوت اور آسیب کا سایہ تک کہہ کر علاج بھی نہیں کروایا جاتا۔

جدید میڈیکل سائنس ان سب باتوں کی نفی کرتی ہے بلکہ ہسٹیریا لفظ اب میڈیکل کی زبان میں استعمال نہیں ہوتا اور اس بیماری کو Conversion Disorder کہتے ہیں۔

سب سے پہلے یہ غلط فہمی دور ہونی چاہیے کہ اس کا تعلق عورت کے رحم سے ہے۔ اس کا عورت کے رحم سے کوئی تعلق نہیں۔ اب یہ بیماری نہ صرف عورتوں بلکہ مردوں اور ٹین ایج بچوں میں بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ ہمارے ملک میں چونکہ نفسیاتی بیماریاں عموماً خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہیں اس لیے اس بیماری کا شکار بھی زیادہ تر خواتین ہی ہوتی ہیں۔

ہسٹیریا ایک اعصابی بیماری ہے جو اعصابی کمزوری کی حالت میں جذباتی ہیجان یا کسی فوری تحریک سے لاحق ہوتی ہے اور اپنے ساتھ بے شمار بیماریوں کی علامتیں رکھتی ہے۔ اس مرض کا رجحان والدین سے بچوں میں بھی ہو سکتا ہے یہی نہیں بلکہ اعصابی لحاظ سے کمزوریاں یا بڑی بہن کی دیکھا دیکھی بھی یہ بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔

انسان کے ذہن میں کاپی کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے اسی لیے یہ کسی ایسی بیماری کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے جو اس مریض نے کبھی دیکھ رکھی ہو۔ اکثر لوگ مرگی اور کنورژن ڈس آرڈر کو ایک ہی بیماری سمجھتے ہیں۔

میڈیکل کی زبان میں ذہنی امراض کی ایک کیٹاگری کو Somatization کہتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ آپ کی ذہنی کشیدگی اور اسٹریس جسمانی بیماری کی صورت میں ظاہر ہو۔ عام طور پر اس مرض میں مبتلا مریض ذہنی دباؤ یا کسی پریشانی کا شکار ہوتا ہے اس کا ذہن نہ حالات کو قبول کرتا ہے اور نہ ہی اس صورتحال سے بچنے کا کوئی راستہ ہوتا ہے۔ ایسے میں کوئی واقعہ یا کوئی اچانک جذباتی دھچکا اس بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ نروس سسٹم یا جسمانی اعضا میں کوئی خرابی نہیں ہوتی اس کی وجہ ذہنی اور جسمانی دباؤ ہوتا ہے اور علاج بھی اس کا یہی ہے کہ مریض کو اس ذہنی دباؤ سے نکالا جائے۔

مریض کسی ایسی ذہنی اذیت یا تکلیف دہ صورتحال سے گزر رہا ہوتا ہے جس کو برداشت کرنے کی صلاحیت اس کے اعصاب میں نہیں ہوتی اور یہ ذہنی کشیدگی جسمانی بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ بیماری ہر مریض میں مختلف انداز سے ظاہر ہوتی ہے کچھ لوگوں کو جھٹکے لگتے ہیں اور کسی مریض کا اچانک کوئی بھی جسمانی اعضا کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، کسی کی اچانک بینائی چلی جاتی ہے تو کسی کا جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں لوگ پیروں فقیروں کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ جن کا سایہ ہے، کوئی کہتا ہے بھوت آگیا ہے لیکن دراصل یہ بیماری ہے اور اس کا علاج صرف اور صرف ڈاکٹر کے پاس ہی ہے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اداکاری کر رہا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہوتا دراصل اس حالت میں مریض بے بس ہوتا ہے اور ایسے مریض کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

سب سے پہلے یہ غلط فہمی دور ہونی چاہیے کہ اس کا تعلق عورت کے رحم سے ہے۔ اس کا عورت کے رحم سے کوئی تعلق نہیں۔ اب یہ بیماری نہ صرف عورتوں بلکہ مردوں اور ٹین ایج بچوں میں بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ ہمارے ملک میں چونکہ نفسیاتی بیماریاں عموماً خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہیں اس لیے اس بیماری کا شکار بھی زیادہ تر خواتین ہی ہوتی ہیں۔

ہسٹیریا ایک اعصابی بیماری ہے جو اعصابی کمزوری کی حالت میں جذباتی ہیجان یا کسی فوری تحریک سے لاحق ہوتی ہے اور اپنے ساتھ بے شمار بیماریوں کی علامتیں رکھتی ہے۔ اس مرض کا رجحان والدین سے بچوں میں بھی ہو سکتا ہے یہی نہیں بلکہ اعصابی لحاظ سے کمزوریاں یا بڑی بہن کی دیکھا دیکھی بھی یہ بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔

انسان کے ذہن میں کاپی کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے اسی لیے یہ کسی ایسی بیماری کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے جو اس مریض نے کبھی دیکھ رکھی ہو۔ اکثر لوگ مرگی اور کنورژن ڈس آرڈر کو ایک ہی بیماری سمجھتے ہیں۔

میڈیکل کی زبان میں ذہنی امراض کی ایک کیٹاگری کو Somatization کہتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ آپ کی ذہنی کشیدگی اور اسٹریس جسمانی بیماری کی صورت میں ظاہر ہو۔ عام طور پر اس مرض میں مبتلا مریض ذہنی دباؤ یا کسی پریشانی کا شکار ہوتا ہے اس کا ذہن نہ حالات کو قبول کرتا ہے اور نہ ہی اس صورتحال سے بچنے کا کوئی راستہ ہوتا ہے۔ ایسے میں کوئی واقعہ یا کوئی اچانک جذباتی دھچکا اس بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ نروس سسٹم یا جسمانی اعضا میں کوئی خرابی نہیں ہوتی اس کی وجہ ذہنی اور جسمانی دباؤ ہوتا ہے اور علاج بھی اس کا یہی ہے کہ مریض کو اس ذہنی دباؤ سے نکالا جائے۔

مریض کسی ایسی ذہنی اذیت یا تکلیف دہ صورتحال سے گزر رہا ہوتا ہے جس کو برداشت کرنے کی صلاحیت اس کے اعصاب میں نہیں ہوتی اور یہ ذہنی کشیدگی جسمانی بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ بیماری ہر مریض میں مختلف انداز سے ظاہر ہوتی ہے کچھ لوگوں کو جھٹکے لگتے ہیں اور کسی مریض کا اچانک کوئی بھی جسمانی اعضا کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، کسی کی اچانک بینائی چلی جاتی ہے تو کسی کا جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں لوگ پیروں فقیروں کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ جن کا سایہ ہے، کوئی کہتا ہے بھوت آگیا ہے لیکن دراصل یہ بیماری ہے اور اس کا علاج صرف اور صرف ڈاکٹر کے پاس ہی ہے۔

1۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حلق میں گولہ سا اٹھ رہا ہے یا گلا گھٹنے کا احساس۔

2۔ تشخیصی صورت: جس میں باؤ گولہ کے ساتھ چیخیں نکلتی ہیں اور ناقابل ضبط رونا یا ہنسی اور تشنج لاحق ہوتا ہے۔

3۔ وہ بے قاعدہ صورتیں جو شدید دردوں کے درمیانی وقفے میں پیدا ہوتی ہیں۔ عام طور پر پیشاب کے اخراج میں بہت تفاوت ہوتا ہے جو بعض اوقات تھوڑا آتا ہے، کبھی بہت زیادہ آتا ہے۔

عام طور پر مریضہ اپنے آپ کو دل یا رحم وغیرہ کی کسی شدید بیماری میں مبتلا سمجھتی ہے لیکن یہ خیال صرف وہم ہوتا ہے کیونکہ درد اور احساسات جن کی شکایت مریضہ کرتی ہے خالص اعصابی نوعیت کے ہوتے ہیں۔

امدادی ذرائع

دل و دماغ کو کام میں لگائے رکھنا، ہمدردی کا اظہار کرنے والے افراد سے دور رہنا، شاور باتھ لینا، نیم گرم پانی استعمال کرنا، محرک اشیا سے پرہیز۔ یہ خیال دور کرلینا چاہیے کہ ہسٹیریا کی کمزوری سے بچنے کے لیے روزانہ شراب کا استعمال مفید ہے۔ اس کی وجہ سے بیماری کی بدترین علامتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ دیر سے سونا اور دیر سے جاگنا اور عام زندگی بسر کرنے کی مصنوعی عادتیں بالکل چھوڑ دینی چاہئیں۔ غذا، آرام، مطالعہ، تفریح، ورزش اور مختلف جسمانی افعال پر خاص طور پر توجہ دینی چاہیے۔

احتیاطی تدابیر

دورہ کے وقت مریضہ کے کپڑے خصوصاً وہ کپڑے جو گردن اور سینہ کے گرد ہوں ڈھیلے کردینے چاہئیں اور زیادہ سے زیادہ تازہ ہوا مہیا کرنی چاہیے۔ سانس روکنے کے لیے ناک اور منہ چند سیکنڈ کے لیے پکڑ کر رکھنا چاہیے یا ٹھنڈے پانی کو اس کے چہرے پر انڈیل دینا چاہیے۔ ان ترکیبوں سے جو عارضی کمی واقع ہوتی ہے وہ طویل حملوں کے لیے بے حد مفید ہوتی ہے۔ مریضہ کو ایک لمبا سانس دلانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ لمبے سانس کے بعد تشنج عام طور پر کم ہو جاتا ہے اور دورہ ختم ہو جاتا ہے۔

دوروں کے درمیان وقفوں میں باقاعدہ ورزش کرنی چاہیے اور خوشگوار ماحول میں رہنا اور دماغ کو اچھے کاموں میں لگانا چاہیے۔

علاج

صبح ہلدی ملا دودھ شہد ملا کر دیں۔ شام کو چھوٹی الائچی، سونف، خحاش کے قہوے میں شہد ملاکر مریض کو دیں۔

کھانے میں سبزپتوں والی سبزیوں کا کثرت سے استعمال اور میتھی دانہ کھلائیں یہ دماغی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔

حکیم عمر عطاری

حکیم عمر عطاری ہربل اسپشلسٹ اور ماہر علم الادویہ ہیں۔ حکیم صاحب سے رابطہ [email protected] پہ کیا جا سکتا ہے۔