1. ہوم/
  2. مضامین/
  3. دال کلتھی اور گردوں کی درد

دال کلتھی اور گردوں کی درد

 ایک خاتون مطب پر تشریف لائی اور الٹراساؤنڈ رپورٹ ساتھ لائی گردوں میں سویلنگ تھی کوئی پتھری وغیرہ نہیں اور درد اتنا زیادہ کے ناقابل برداشت خاتون کا وزن زیادہ تھا اور گیسٹرک ایشو کافی زیادہ تھا کہنے لگی مجھے گردوں کا مسئلہ ہو گیا کسی نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور درد ختم نہیں ہو رہا میں ان کو بتایا آپ کی گیس جب بنتی ہے تو وہ گردوں میں بھی جاتی ہے اور اس وجہ سے سویلنگ ہو رہی ہے آپ پریشان مت ہوں بیچاری پریشان تھی کہنے لگی چھ بچے ہیں حکیم صاحب کیا ہو گا میں ان کو دال کلھتی لکھ کر دی اور کہا آپ باہر سے پچاس روپے کی لیں اور صرف سو گرام کالی مرچ اور ادرک لہسن ڈال کر اچھے طریقے سے پکائیں پریشر نہیں لگانا چاہیے ساری رات بنتی رہے ہلکی آنچ پر پکانی ہے پانی خشک نہ ہو اور نہ دال جلے اور جتنی دال بنے تین تین گھنٹے کے وقفہ سے کھا جائیں۔

سچ بتاؤں تو وہ خاتون اتنا مطمئن نہیں ہوئی کہ حکیم صاحب کے پاس شائد علاج نہیں ہے وہ مجھے ٹرخا رہے ہیں مگر ساتھ آئے بھائی جان مجھ سے اپنی پتھری کا علاج کروا چکے تھے خیر خاتون چلی گئی اور کل رات میرے پاس کسی اور خاتون کو کسی اور مسئلے کے لائی اور کہنے لگی حکیم صاحب مجھے چار سال سے اس درد نے پاگل گیا ہوا تھا ڈرپس لگوانی پڑتی تھی جب بھی یہ درد ہوتا تھا مگر آپ کی اس دال کی پہلی خوراک نے ایسا جادو کیا کہ میں اگلی خوراک کی صرف تیسری نہیں اور میرے گردوں کا درد غائب ہو گیا بہت ساری دعائیں دی الحمدللہ رب العالمین۔

سچ بتاؤں تو یہ دال اللہ تعالیٰ کا انعام ہے جو اپنے بندوں پر کیا ہے اس کے فوائد ناقابل یقین ہیں میں پتہ نہیں کتنے مریضوں کو اس کا استعمال کروایا ہے خاص کر جن کے جسم میں کیلشیم کی زیادتی سے پتھریاں بنتی ہیں وہ تو اس سے بہت زیادہ فیض حاصل کرتے ہیں مجھے کل بڑی حیرانی بھی ہوئی کہ یہ میں ابھی تک آپ لوگوں کو کیوں نہیں بتایا تو جناب حاضر خدمت ہے میرے ابا جی کا بتایا ان نسخوں میں سے نسخہ جو اپنی مثال آپ ہے چھوٹے ہوتے سے دیکھ رہا ہوں لوگ آتے ہیں لے جاتے ہیں اور صحت پاتے ہیں الحمدللہ رب العالمین۔

پروٹین سے بھرپُور یہ دال آئرن، فاسفورس، فائبر، کلیشیم جیسی غذائی خوبیوں سے بھرپُور ہونے کے ساتھ صحت کے لیے انتہائی مُفید اینٹی آکسائیڈینٹس پر مشتعمل ہے جو ہمیں کئی دائمی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں، طب ایوردیک اور طب یونان کے ماہرین اس دال کو گُردے کی پتھری کے خاتمے کے لیے صدیوں سے مریضوں کو استعمال کروا رہے ہیں، گُردوں کی پتھری جسم میں کیلشیم کی مقدار میں اضافے کے باعث پیدا ہوتی ہے اور اس دال میں موجود اینٹی آکسائیڈینٹس جسم میں موجود منجمد کیلشیم کو خارج کر دیتے ہیں خاص طور پر اگر اس کیلشیم سے گُردوں میں پتھری پیدا ہو رہی ہے تو اس دال کا استعمال اس پتھری کو ریزہ ریزہ کر کے پیشاب کے ذریعے خارج کر دیتا ہے۔

کلتھی کی دال ہمارے نظام انہظام کو بھی درست رکھتی ہے کیونکہ اس میں فائبر کی بھی ایک بڑی مقدار پائی جاتی ہے، اس دال میں دو انتہائی اہم مرکبات جنہیں فلانڈز اور پولی فینلز کہا جاتا ہے پائے جاتے ہیں اور یہ دونوں ہمارے جگر کے لیے انتہائی فائدہ مند ہیں جو جگر کے خون کو صاف کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔

شوگر کے مریض افراد کے لیے یہ دال کسی اکسیر سے کم نہیں کیونکہ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ یہ خوراک سے شوگر کو خون میں تیزی سے شامل ہونے سے روکتی ہے جس سے خون میں شوگر کا لیول بڑھتا نہیں ہے اور اس کی یہ خوبی ذیابطیس کے مریضوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے اور اگر ذیابطیس کے مرض میں اس دال کو روزانہ کی خوراک میں شامل کر لیا جائے تو یہ اس مرض کو قابو میں رکھنے میں انتہائی معاؤن ثابت ہوتی ہے۔

اس دال کی ایک اور خُوبی جسم کی اضافی چربی کو پگھلانا ہے جس سے موٹاپا جیسی بیماری سے بچا جا سکتا ہے خاص طور پر وہ افراد جو بڑھے ہُوئے پیٹ سے پریشان ہیں اس دال کو اپنی خوراک میں شامل کریں تو یہ دال جہاں اُن کا موٹاپا کم کرے گی وہاں اُنہیں کولیسٹرال کے بڑھنے جیسے مرض سے بچائے گی کیونکہ یہ خون سے بُرے کولیسٹرال کو ختم کر کے اچھے کولیسٹرال کا اضافہ کرتی ہے۔

بےشمار خُوبیوں کی حامل کلتھی نزلہ، زکام جیسے امراض کو بھی پیدا نہیں ہونے دیتی اور ہمارے نظام مدافعت کو مضبوط بنا کر ہمیں موسمی بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اگر جسم میں آئرن کی کمی واقع ہو جائے تو یہ دال آئرن کی کمی کو پُورا کرکے خون کے سُرخ ذرات میں اضافہ کرتی ہے جس سے سارے جسم میں آکسیجن کی سپلائی بہتر ہوتی ہے، جلد خُوبصورت ہوتی ہے گھنے اور لمبے ہوجاتے ہیں اورسارے جسم کو تقویت ملتی ہے۔

آپ اس دال کو اپنی خوراک میں شامل کرنے کے لیے اسے عام طریقے سے پکا کر کھانے کیساتھ ساتھ پیس کر اسکا پاوڈر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

حکیم عمر عطاری

حکیم عمر عطاری ہربل اسپشلسٹ اور ماہر علم الادویہ ہیں۔ حکیم صاحب سے رابطہ [email protected] پہ کیا جا سکتا ہے۔