Wednesday, 25 November 2020
  1. ہوم /
  2. مضامین /
  3. سوپر فوڈ فار وٹامنز

سوپر فوڈ فار وٹامنز

آج ہم ایسی خوراک کا ذکر کریں گے جو میرے نزدیک اس زمین پر بہترین فوڈز میں سے بلا مبالغہ اک فوڈ ہے، جس کو میں سوپر فوڈ فار وٹامنز کہتا ہوں اپنے مریضوں کو کھانے کے لئے لازمی دیتا ہوں۔ اگر آپ سبزیاں نہیں کھا سکتے ہیں ڈرائی فروٹ افورڈ نہیں کر سکتے تو یہ آپ کے سپر نیچرل فوڈ ہے قدرت کا بہترین معجزہ ہے الحمدللہ رب العالمین۔

آج کی تحریر کا مقصد ہو گا ڈاکٹر، دوائی اور بیماری سے دور کیسے رہا جائے ظاہر بات آپ کا جسم توانا ہو گا صحت اچھی ہوگی تو آپ ان سے دور رہیں گے تو ان سب کے لئے ہمیں کیا کرنا ہو گا آج میں آپ کو اک ایسی خوراک کے بارے میں بتاؤں گا جس میں وٹامنز کے بھنڈار ہوں گے انرجی کی بہتات ہو گی الحمد بہترین قسم کی غذا ہو گی۔

بیف کی کلیجی، اس میں تمامی وٹامنز ہوتے ہیں طاقت اور صحت اور توانائی کا سر چشمہ ہے ہفتے میں صرف دو دن لیں۔ اس کو سپر فوڈ کہتے ہیں اس میں آئرن ہے، فولک ایسڈ ہے، پوٹاشیم ہے، زنک ہے، کاپر ہے، اومیگا تھری ہے، کیٹو فوڈ میں پوٹاشیم مین ضروریات میں سے ہوتی ہے خاص کر جسم میں انسولین بنانے کے لئے سیلنئیم پایا جاتا ہے۔اور اک مزے کی بات آپ کو بتاتا ہوں مچھلی کے علاؤہ صرف بیف میں اومیگا تھری پائی جاتی ہیں۔

بیف کی کلیجی وٹامن اے کا خزانہ ہے صرف آدھا پاؤ بیف کلیجی میں دو ہفتوں کے لئے وٹامن اے جسم کا پورا ہو جاتا ہے جو کہ آنکھوں کے لئے انتہائی ضروری ہے اسکن کے لئے بہت ضروری ہے۔ کلیجی جسم میں آئرن جیسے جز کی کمی اینیمیا (خون کی کمی) کا موثر علاج ثابت ہو سکتی ہے۔

کلیجی، مغز، دل اور گردے بہت زیادہ پرغذائیت ہوتے ہیں اور ان میں آئرن کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ گائے کی سو گرام کلیجی میں 6.5 ملی گرام آئرن موجود ہوتی ہے جو روزانہ درکار مقدار کا 36 فیصد حصہ ہے۔ کلیجی اور دیگر حصے پروٹین اور بی وٹامنز، کاپر اور سیلینیم سے بھی بھرپور ہوتے ہیں، کلیجی میں وٹامن اے کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔

وٹامن کے ٹو آپ کو دنیا کی کسی خوراک میں نہیں ملے گا مگر دیکھیں قدرت کا کرشمہ بیف کی کلیجی میں پایا جاتا ہے۔ وٹامن سی بھی کسی گوشت والی شے میں نہیں ہوتا ہے مگر اس میں کچھ مقدار میں پایا جاتا ہے وٹامن بی 12 کے لئے لوگ انجیکشن لگواتے ہیں پتہ نہیں کیا کیا کرتے ہیں مگر دیکھیں قدرت کا کمال بیف کلیجی میں وٹامن بی 12 پایا جاتا ہے۔

جگر کبھی زہریلا مواد اکھٹا نہیں کرتا اس لئے بے دھڑک ہو کر کھائیں۔ اس کو ہفتے میں دو دفعہ لے سکتے ہیں اس کو پکانے کے لئے زیادہ ہیٹ پر نہیں پکانا ہے اوور کک نہیں کرنا چھوٹی چھوٹی بوٹیاں کر لیں دودھ میں دو سے تین گھنٹے بھگو دیں دودھ سارا لال ہو جائے گا پھر پانی سے دھو کر اچھے طریقے سے اس کو پانچ منٹ میں ہلکی آگ پر پکا لیں تاکہ اس کے منرلز ضائع نہ ہوں۔

حکیم عمر عطاری

حکیم عمر عطاری ہربل اسپشلسٹ اور ماہر علم الادویہ ہیں۔ حکیم صاحب سے رابطہ [email protected] پہ کیا جا سکتا ہے۔