1. ہوم/
  2. مضامین/
  3. محفوظ غذا ہماری صحت

محفوظ غذا ہماری صحت

محفوظ غذا ہماری صحت کی ضامن سبزیاں اور پھل کھانے والے افراد میں امراض قلب کا خطرہ کم پایا جاتا ہے ہے۔ ماہرین نے مناسب غذا کی جو تعریف کی ہے وہ کچھ اس طرح سے ہے مناسب اور بہترین غذا ہے وہ ہوتی ہے جس سے جسم کو غذائیت اور توانائی فراہم ہو سکے اور انسان کو پیٹ بھرا ہوا محسوس ہو سکون نصیب ہو خون میں اضافہ ہو یا داشت بہتر ہو صحت کا معیار بلند ہو عمر طویل ہو۔

مختلف تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایسے افراد جو پھل اور سبزیاں خوب کھاتے ہیں ان کو امراض قلب کا خطرہ دیگر افراد کی نسبت جو پھل اور سبزیاں نہیں کھاتے یا بہت کم کھاتے ہیں 15 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ جن لوگوں نے پھل اور سبزیاں زیادہ مقدار میں کھانے شروع کر دی، ان میں دل کے امراض کا عارضہ کم ہو گیا اور یہ بھی بات نوٹ کی گئی کہ ایسے افراد شوگر کے عارضے سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ ماہرین نے کہا ایسے افراد پھل اور سبزیاں دن میں پانچ مرتبہ روزانہ کھانے کے عادی تھے۔ روزمرہ کے دوران عام استعمال ہونے والے پھل اور سبزیاں انسانی جسم کو بیماریوں کے خلاف بھرپور قسم کی قوت مدافعت فراہم کرتے ہیں اگر ان کے پھلوں اور سبزیوں کو کو متواتر استعمال کیا جائے تو بہت سی بیماریوں اور پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے دنیا بھر میں قدرتی اشیاء پھولوں اور جڑی بوٹیوں کو دواؤں کے طور پر استعمال کرنے کا رواج جانب بڑھ رہا ہے۔

ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق زیادہ ریشہ کھانے والی خواتین کم ریشہ کھانے والی خواتین کے مقابلے میں چھاتی کے سرطان سے زیادہ محفوظ رہتی ہیں یہی حال میں ادارہ صحت کے تجویز کردہ دس نکات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے لیے مختصر ادرج ذیل باتوں پر عمل کریں کریں۔

محفوظ کھانوں کا انتخاب کیجیے

کئی غذائیں مثلاً پھل اور سبزیاں اپنی اصل حالت میں ہی بہترین اور مفید ثابت ہوتی ہیں لیکن بعض چیزوں کو محفوظ بنانے کے لیے بعض دفعہ اور طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ان کے ذریعے یہ غذائی محفوظ ہو جاتی ہیں، مثلا کچا دودھ ابلے ہوئے دودھ کے مقابلے میں محفوظ نہیں ہوتا۔ کوئی بھی شے خریدتے وقت یہ بات دھیان میں رکھیں جو غذائیں مصنوعی طریقے سے محفوظ کی گئی ہیں جب کہ قدرت نے انہیں تازہ کھانے کے لئے پیدا کیا ہے ان کے کوئی نہ کوئی ذیلی اثرات ہوتے ہیں جو کہ ہمارے معدے کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔

 اچھی طرح پکائیے

کئی غذائیں جیسے مرغی کا گوشت مچھلی کسی دوسری قسم کا گوشت اور کچے دودھ وغیرہ میں مختلف امراض کے جراثیم گھر کر لیتے ہیں غذائیں خوب اچھی طرح پکنے کے بعد ہی محفوظ ہوتی ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے خوراک کے تمام حصے کم از کم 70 ڈگری سینٹی گریڈ پر پکائیں اس کے علاوہ فریض کیا ہوا گوشت پکانے سے پہلے اچھی طرح پگھلانا اور دھونا چاہیے۔

 پکی ہوئی غذا فوری کھائیے

پکی ہوئی غذا کمرہ کے درجہ حرارت میں کچھ ہی دیر بعد جراثیم کے لئے موزوں ہو جاتی ہے اس لیے کھانا کھانا کھانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔

پکی ہوئی غذا حفاظت سے رکھیئے

پکی ہوئی یا کچی غذا کو اگر رکھنا مقصود ہو تو اسے کم از کم 60 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر گرم رکھیے اور ٹھنڈا رکھنے کی صورت میں دس سینٹی گریڈ سے کم ٹھنڈا رکھیے ان دونوں درجوں پر غذائی چار یا پانچ گھنٹوں تک محفوظ رہتی ہیں ٹھیک ہے۔

 کھانا خوب گرم کر کے کھائیے

محفوظ کیے گئے کھانے کو اچھی طرح گرم کر کھانا چاہیے کیونکہ معمولی گرم کرنے سے اس میں پیدا ہونے والے جراثیم ختم نہیں ہوتے اس کے لیے ضروری ہے کہ کھانا 70 سینٹی گریڈ پر گرم کیا جائے اس کا کوئی حصہ گرم رہنے سے بچا نہیں رہنا چاہیے۔

کچی اور پکی غذائیں الگ الگ رکھیئے

کچی اور پکی ہوئی غذاؤں کو الگ الگ رکھنا چاہیے یعنی اگر آپ نے کباب تلے ہوئے ہیں تو انہیں کچے گوشت دور رکھیے گا کہ کچے گوشت کے جراثیم کبابوں میں سرایت نہ کر جائیں اس سلسلے میں یہ بھی ضروری ہے کہ کچی غذاؤں کے اٹھانے دھونے وغیرہ کے بعد ہاتھ اور برتن بھی پکی ہوئی غذا سے نہ چھوئیں۔ مرغی کاٹنے کے لئے استعمال ہونے والی چھری سے پکی ہوئی مرغی یا مچھلی نہ کاٹیں اس طرح جس تختے پر آپ ان کے ٹکڑے کریں اس پر پکی ہوئی چیز نہ رکھیں۔

 ہاتھ بار بار دھوئیں

کھانا تیار کرنے کے مختلف مراحل ہوتے ہیں یہ ضروری ہے کہ ہر مرحلے پر آپ اپنے ہاتھ کو اچھے طریقے سے دھوئیں خاص طور پر اگر کھانے کے دوران بچے کے کپڑے بدلنے ہو یا اسے دھلانا پڑے تو اس سے پہلے ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھو لیں اور بعد میں بھی صابن سے اچھی طرح سے دھوئیں۔ یاد رکھیں کہ پالتو جانوروں مثلاً کتابلی مرغی طوطے یا مرغی وغیرہ سے خطرناک جراثیم اور امراض پھیل سکتے ہیں اگر آپ اپنے گھر میں ان جانوروں کو رکھے ہوئے ہیں تو یہ یاد رکھیں کھانا پکانے کے دوران ان کو پکڑنے سے گریز کریں۔

 باورچی کھانا صاف رکھیئے

یہ بات بہت ضروری ہے کہ جہاں پر آپ کھانا پکانے کی چیزیں تیار کرتے ہیں یا کھانے پینے کے برتن رکھتے ہیں وہ جگہ ہر طرح سے صاف ستھری ہونی چاہیے باورچی خانے میں استعمال ہونے والے ہر برتنوں اور ہر چیز کو استعمال سے پہلے اور بعد میں اچھی طرح دھو کر رکھیں۔

 غذا کو کیڑے مکوڑوں سے بچائیے

مکھیاں لال بیگ چیونٹیاں چوہے اور بلی ا ایسے کیڑے مکوڑے اور جانور ہیں جن کے ذریعے غذا میں جراثیم آسانی سے منتقل ہو سکتے ہیں اس لئے ان کو اچھی طرح سے ڈھانپ کر محفوظ رکھنا بے حد ضروری ہے۔

 پانی صاف استعمال کیجئے

صاف پانی پینے کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء تیار کرنے کے لئے بھی صاف پانی استعمال کرنا چاہیے کھانا پکاتے وقت ابلا ہوا پانی استعمال کرنا چاہیے برف بھی ابلے ہوئے پانی کی جمائی جائیں تاکہ پینے والا پانی ہر طرح سے محفوظ ہوسکے۔

حکیم عمر عطاری

حکیم عمر عطاری ہربل اسپشلسٹ اور ماہر علم الادویہ ہیں۔ حکیم صاحب سے رابطہ [email protected] پہ کیا جا سکتا ہے۔