پراسٹیٹ گلینڈ مردانہ تولیدی نظام کا ایک چھوٹا سا عضو ہے جو مثانے کے نیچے واقع ہوتا ہے اور پیشاب کی نالی کو ارد گرد سے گھیرتا ہے۔ انگریزی زبان میں اسے پراسٹیٹ گلینڈ یا پراسٹیٹ کہتے ہیں، جبکہ اردو میں اسے غُدّۂ قدامیہ یا غدۃ المذی بھی کہا جاتا ہے۔
یہ ایک چھوٹی سی گلٹی کی مانند ہوتا ہے۔ طبعی حالت میں اس کی لمبائی چار سینٹی میٹر اور چوڑائی تین سینٹی میٹر اور موٹائی دو سینٹی میٹر ہوتی ہے اس کا سائز اخروٹ (Walnut) کے برابر سمجھا جاتا ہے۔
گاڑھی اور ملائم رطوبت پیدا کرتا ہے پیشاب کو خود بخود خارج ہونے سے روکتا ہے اس کا اہم کام مذی نامی رطوبت پیدا کرنا ہے، جو سپرم کو غذائیت فراہم کرتی ہے اور ان کی حرکت میں مدد دیتی ہے اور باروری میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
عمر کے ساتھ عموماً 45 سے 50 سال کی عمر میں پراسٹیٹ کچھ بڑھ جاتا ہے۔
"Benign prostatic hyperplasia" جسے پراسٹیٹ کا بڑھ جانا بھی کہا جاتا ہے۔
اس کی علامات یہ ہو سکتی ہیں:
بار بار پیشاب آنا، پیشاب شروع کرنے میں مشکل ہونا، پیشاب کی دھار کمزور ہونا، پیشاب نہ کر پانا یا مثانے پر قابو نہ رہنا یعنی بلا ارادہ پیشاب خارج ہونا۔
جب یہ زیادہ بڑا ہو جائے تو پیشاب کی نالی دبنے لگتی ہے۔
طبعی پروسٹیٹ گلینڈ کا وزن عام طور پر 20 سے 25 گرام ہوتا ہے۔ لیکن اگر وزن 30 گرام سے زیادہ ہو جائے تو اسے بڑھی ہوئی حالت (BPH) سمجھا جاتا ہے۔
اگر 30 – 50 گرام یا 50 – 80 گرام وزن ہو جائے تو پیشاب میں خاصی رکاوٹ آجاتی ہے۔
شدید اضافہ: 80 – 100 گرام یا اس سے زیادہ وزن ہو جائے تو پیشاب کی بندش کی صورت میں کافی پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔
اسباب
یہ عضلاتی تحریک کا مرض ہے۔ مسلسل سرد خشک اشیاء کے استعمال سے غدد میں رطوبات کا اجتماع ہوجاتا ہے اور گلینڈ کا وزن بڑھ جاتا ہے۔
اصول علاج
غدی غذاؤں اور دواؤں سے غدد کی اضافی رطوبات کو خارج کرنا اور ان میں سکیڑ پیدا کرنا ہی اصل علاج ہے۔ اس مقصد کے لئیے۔۔
ناشتہ۔ بادام 10 عدد، منقہ 5 عدد چبا کر کھائیں ساتھ میں ادرک اور سونف کا قہوہ پلائیں۔
رات کو اجوائن دیسی اور ادرک کا قہوہ پلائیں۔
انڈہ میں چینی ڈال کر آملیٹ بناکر یعنی میٹھے انڈوں کا ناشتہ کریں۔ رات کو کالے چنے کا شوربہ، گوشت بکرا، مرغ دیسی، مربہ آم، لہسن کا شوربہ، یخنی، تارا میرا، انڈا بطخ، مربہ ادرک، دال مونگی، گاجر گوشت، ٹینڈے گوشت یا ساگ مکو سے کھانا کھلائیں۔
ادویات
غدی عضلاتی ملین اور غدی اعصابی اکسیر ملا کر دن میں چار بار نیم گرم پانی سے کھلائیں۔
گل کیسو کو پانی میں ابال کر اسی نیم گرم پانی سے مثانہ کے مقام پر ٹکور کریں۔